نئی دہلی،16جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس کےقومی صدر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہونے سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اسی سیشن میں خواتین ریزرویشن بل پاس کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کانگریس اس کے لئے انہیں غیر مشروط حمایت دینے کو تیار ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیر اعظم کو اس سلسلے میں پیر کو لکھا خط ٹوئٹر پر پوسٹ کرکے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ وہ خواتین کوبااختیار بنانے کے حق میں ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ وہ سیاست سے اوپر اٹھ کر اسےعملی جامہ پہنائیں اور پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل پاس کرائیں۔ کانگریس انہیں غیر مشروط حمایت دے گی۔
انہوں نے لکھا ہے کہ راجیہ سبھا نے اس بل کو 9 مارچ 2010 کو منظور کیا تھا لیکن یہ گزشتہ آٹھ برسوں سے کسی نہ کسی بہانے سے لوک سبھا میں اٹکا پڑا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ وزیر اعظم اپنی مختلف ریلیوں میں خواتین کو بااختیار بنانے اور عورتوں کو عوامی زندگی میں اہمیت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ اسےپوراکرنے کے لئے اس سے اچھا موقع اور کیا ہو سکتا ہے۔ لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی اکثریت ہے اگر وہ اس کی حمایت کرتے ہیں تو یہ بل منظور ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔اس بل کو منظور کرانے کا مانسون اجلاس سب سے زیادہ مناسب وقت ہے اور اگر یہ اس وقت منظور نہیں ہو سکا تو اسے آئندہ عام انتخابات سے پہلے ریزرویشن کانفاذ نہیں ہو پائے گا۔
مسٹر گاندھی نے لکھا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے معاملے میں ہمیں پارٹی کی سیاست سے اوپر اٹھ کر ملک کوایک ساتھ ہو کر پیغام دینا ہے کہ اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔ خواتین کو اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں مناسب نمائندگی ملنی چاہئے کیونکہ ابھی ان کی نمائندگی بہت کم ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ خواتین ریزرویشن بل کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور عوامی حمایت اکٹھاکرنے کے لئے کانگریس پارٹی نے 32 لاکھ لوگوں کے دستخط کرائے ہیں۔ کانگریس یہ دستخط آپ کے پاس بھیج رہی ہے اور بل کو منظور کرانے کے لئے آپ کی حمایت کی توقع کرتی ہے جس سے یہ پارلیمنٹ میں پاس ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری سے خواتین کو آئندہ لوک سبھا میں اہم حصےداری کا موقع ملے گا۔
مسٹر گاندھی نے لکھا ہے کہ بی جے پی نے راجیہ سبھا میں اس بل کی حمایت کی تھی اور راجیہ سبھا میں اس وقت کےحزب اختلاف کے رہنما ارون جیٹلی نے اس وقت کہا تھا کہ یہ ‘تاریخی اور یادگار لمحہ’ ہے۔ اس کے بعد سے کانگریس اس بل کے تئیں اپناعزم وارادہ ظاہر کرتی رہی ہے لیکن لگتا ہے کہ بی جے پی اب کچھ اور سوچ رہی ہے۔ جبکہ 2014 کے عام انتخابات کے منشور میں یہ اس کا ایک اہم وعدہ تھا۔
کانگریس صدر نے کہا ہے کہ یہ انقلابی بل کو لے کر شک ظاہرکرنے والے اپنی پارٹی کے ارکان کوآپ پنچایت اور کارپوریشن کی سطح پر خواتین نمائندوں کی کامیابی اور شراکت کی مثال دے کر بتا سکتے ہیں کہ وہ معاشرے اور ملک کی تعمیر میں فیصلے کرنے میں پوری طرح قابل ہیں۔ اسی لیے یہ بل ملک اور حکومت میں بڑی تبدیلی لا سکتاہے۔